اتحاد و اتفاق کی برکات


انسانوں میں سب سے بہترین شخص وہ ہے جو دوسروں کے لیے اچھا ہو اور دوسروں کو فائدہ پہنچائے۔ فوٹو: فائل

انسانوں میں سب سے بہترین شخص وہ ہے جو دوسروں کے لیے اچھا ہو اور دوسروں کو فائدہ پہنچائے۔ فوٹو: فائل

ارشاد باری تعالیٰ کا مفہوم ہے: ’’اﷲ سے ڈرو اور آپس میں صلح کرو۔‘‘ (سورہ الانفال)

اﷲ رب العزت نے انسان کو اشرف المخلوقات بنایا ہے۔ انسانوں میں سب سے بہترین شخص وہ ہے جو دوسروں کے لیے اچھا ہو اور دوسروں کو فائدہ پہنچائے۔ قرآن پاک میں ارشاد پاک ہے کہ اس دنیا میں عزت اور کام یابی انہی لوگوں کو نصیب ہوتی ہے جو خلق خدا کی خدمت اور اس کو فائدہ پہنچاتے ہیں۔

رسول کریمؐ نے ارشاد فرمایا: ’’لوگوں میں اچھا وہ ہے جو لوگوں کو نفع دیتا ہے۔‘‘ لوگوں میں اچھا بننے کا بہترین طریقہ بھی یہی ہے کہ ہم مخلوق خدا کی خدمت کریں اور اس کو فائدہ پہنچائیں۔ کیوں کہ اسی میں ہماری دنیا اور آخرت کی کام یابی کا راز پوشیدہ ہے۔

حضرت ابن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول کریمؐ نے ارشاد فرمایا: ’’مسلمان، مسلمان کا بھائی ہے، نہ اس پر زیادتی کرتا ہے نہ اسے ( بے یار و مددگار چھوڑ کر دشمن کے) سپرد کرتا ہے جو اپنے مسلمان بھائی کی حاجت پوری کرنے میں لگا ہو، اﷲ تعالیٰ اس کی حاجت پوری فرماتا ہے۔ جو کسی مسلمان کی کوئی پریشانی دور کرتا ہے، اﷲ تعالیٰ اس کی وجہ سے اس کی قیامت کی پریشانیوں میں سے کوئی پریشانی دور فرما دے گا اورجس نے کسی مسلمان کی پردہ پوشی کی اﷲ تعالیٰ قیامت والے دن اس کی پردہ پوشی فرمائے گا۔‘‘ (مسلم، بخاری)

ارشاد باری تعالیٰ کا مفہوم: ’’اور اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کراؤ پھر اگر ایک، دوسرے پر زیادتی کرے تو اس زیادتی والے سے لڑو یہاں تک کہ وہ اﷲ کے حکم کی طرف پلٹ آئے۔ پھر اگر پلٹ آئے تو انصاف کے ساتھ ان میں اصلاح کردو اور عدل کرو بے شک عدل والے اﷲ کے بڑے پیارے ہیں مسلمان مسلمان بھائی ہیں تو اپنے دو بھائیوں میں صلح کراؤ اور اﷲ پاک سے ڈرو کہ تم پر رحمت ہو۔‘‘

(ترجمہ کنزالایمان۔ سورۃ الحجرات )

مسلمانوں میں صلح کرانا حضور ﷺ کی سنت اور اعلیٰ درجے کی عبادت ہے۔ حقوق کی بھی دو قسمیں ہیں، حقوق اﷲ اور دوسرا حقوق العباد۔ حقوق اﷲ میں اﷲ تعالیٰ کے حقوق مثال کے طور پر نماز، روزہ، وغیرہ شامل ہیں۔ حقوق العباد سے مراد بندوں کے حقوق ہیں۔ اﷲ پاک اپنے حقوق تو اپنی رحمت سے معاف کردے گا، لیکن بندوں کے حقوق تب تک معاف نہیں ہوں گے جب تک وہ بندے معاف نہ کریں۔ دو ناراض مسلمان بھائیوں کے درمیان صلح کرانا بھی حقوق العباد میں شامل ہے۔

مسلمان کا یہ کام ہے کہ جہاں کہیں بھی دو ناراض مسلمان بھائیوں کو دیکھے تو ان کے درمیان صلح کرادے کیوں کہ ایک مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہے اور مومن دوسرے مومن بھائی کا بھائی ہے، تو بھائی کا یہ کام نہیں کہ بھائیوں کو آپس میں لڑا دے بل کہ بھائی کا کام بھی یہی ہے کہ دو ناراض بھائیوں کو آپس میں ملا دے۔ مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ کے شر سے مسلمان محفوظ رہیں۔ اور مومن وہ ہے جس کی طرف سے لوگوں کو اپنی جان اور اموال کے بارے میں کوئی ڈر اور خطرہ نہ ہو۔ صلح کرانا بھی نماز، روزہ، صدقہ اور خیرات وغیرہ کی طرح یہ بھی ایک نیکی ہے۔

آقائے دو جہاں ﷺ کا ارشاد پاک ہے: ’’ایک مومن دوسرے مومن کا آئینہ ہے اور ایک مومن دوسرے مومن بھائی کا بھائی ہے۔ اس کے ضرر کو اس سے دفع کرتا ہے اور اس کے پیچھے اس کی پاسبانی اور نگرانی کرتا ہے۔‘‘ (سنن ابی داؤد)

نبی کریمؐ نے فرمایا: ’’لوگو! آپس میں حسد نہ کیا کرو اور آپس میں بغض نہ رکھو اور نہ ایک دوسرے سے قطع تعلق کرو اور اے اﷲ کے بندو! بھائی بھائی ہوجاؤ۔‘‘ (صحیح مسلم)

نبی اکرم ﷺ کا ارشاد گرامی کا مفہوم ہے: ’’دو آدمیوں کے درمیان صلح کرادو، یہ بھی ایک نیکی ہے تم کسی کو اپنی سواری پر بٹھالو یا اس کا بوجھ اپنی سواری پر رکھ لو یہ بھی نیکی ہے۔ اچھی بات بھی کہنا نیکی ہے۔ تمہارا ہر قدم جو نماز کے لیے اٹھتا ہے نیکی ہے۔ راستے سے کانٹے پتھر ہٹا دینا بھی نیکی ہے۔‘‘

حضرت ابوایوب انصاریؓ روایت کرتے ہیں کہ رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ’’کسی مسلمان کے لیے جائز نہیں ہے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی سے تین دن سے زیادہ قطع تعلق رکھے، دونوں آپس میں ملیں، ایک کا رخ ایک طرف اور دوسرے کا رخ دوسری طرف ہو تو ان میں سے بہتر وہ ہوگا جو سلام میں ابتدا کرے گا۔‘‘

حضرت امام حسن بصریؒ فرماتے ہیں کہ حضور ﷺ کا ارشاد گرامی ہے: ’’ قطع تعلقی اختیار نہ کر اگر ضروری ہی کوئی امر پیش آجائے تو تین دن سے زیادہ تک قطع تعلقی نہ کرو، ایسے دو مسلمان مر جائیں جو باہمی قطع تعلقی کیے ہوئے ہوں تو جنت میں بھی جمع نہ ہوں گے۔‘‘

حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ مغفرت و بخشش واجب کرنے والی چیزوں میں سے ایک چیز یہ بھی ہے کہ اپنے مسلمان بھائی کو خوشیوں سے ہم کنار کیا جائے۔

حضرت ابوبکرؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول خدا ﷺ کو (ایک مرتبہ) منبر پر دیکھا۔ جب کہ حضرت حسن بن علیؓ، آپؐ کے پہلو میں تھے، آپؐ کبھی لوگوں کی طرف اور کبھی ان کی طرف متوجہ ہوتے تھے اور فرماتے: میرا یہ بیٹا سیّد ہے اور امید ہے کہ اﷲ اس کے ذریعے سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کرائے گا۔ (متفق علیہ)

حضرت سہل بن سعدیؓ سے روایت ہے کہ قُبا والوں نے ایک دفعہ آپس میں جنگ کی یہاں تک کے باہم پتھر مارے۔ رسول اکرم ﷺ کو اس کی خبر دی گئی تو آپؐ نے فرمایا: ہمیں لے چلو کہ ان کے درمیان صلح کرادیں۔

حضرت انس بن مالکؓ نبی کریمؐ سے روایت کرتے ہیں کہ پانچ آدمیوں کی کوئی نماز نہیں ہے: ایسی عورت جس پر اس کا شوہر ناراض ہو۔ مالک کا بھگوڑا غلام۔ تین دن سے زیادہ تک بھائی سے قطع تعلق کرنے والا۔ شراب خور اور لوگوں کا ایسا امام جس کے پیچھے لوگ نماز پڑھنا پسند نہ کرتے ہوں۔

بعض صحابہ کرام ؓ فرماتے ہیں جو شخص آٹھ چیزوں سے عاجز آجائے اس پر لازم ہے کہ وہ آٹھ دوسری چیزوں کو اپنا لے تاکہ فضیلت سے محروم نہ رہے ۔

جو شخص یہ چاہتا ہے کہ سویا بھی رہے اور نماز تہجد کی فضیلت بھی پا لے تو اسے چاہیے کہ وہ دن کو اﷲ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کرے ۔

جو روزہ نہ رکھ کر بھی نفلی روزوں کا ثواب حاصل کرنا چاہتا ہو اسے چاہیے کہ وہ اپنی زبان کی حفاظت کرے۔

جو علماء کی فضیلت پانے کا خواہش مند ہو اس پر غور و فکر کرنا لازم ہے۔

جو گھر بیٹھے ہی مجاہدین اور غازیوں کا مرتبہ و فضیلت پانے کا ارادہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ شیطان کے ساتھ جہاد کرے۔

جو صدقہ کرنے سے عاجز ہو لیکن صدقہ کی فضیلت پانا چاہتا ہو اسے چاہیے کہ وہ جو علمی بات سنے اسے دوسروں تک پہنچا دے۔

جو حج کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا لیکن حج کی فضیلت پانا چاہتا ہو اسے چاہیے کہ وہ جمعۃالمبارک کی ادائی کو لازم پکڑ لے۔

جو عابدوں کی فضیلت چاہتا ہو اسے چاہیے کہ وہ لوگو ں کے درمیان صلح کرا دے اور بغض و عداوت نہ پیدا ہونے دے۔

جو ابدال کی فضیلت کا ارادہ رکھتا ہو اسے چاہیے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کے لیے بھی وہی پسند کرے جو اپنے لیے پسند کرتا ہے۔

حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ قیامت کے دن اﷲ تعالیٰ کے ہاں ثواب کے اعتبار سے زیادہ فضیلت والا شخص وہ ہوگا جو دنیا میں لوگوں کے لیے زیادہ نفع رساں ہو اور اﷲ تعالیٰ کے مقربین میں سے وہ ہوگا جو لوگوں کے درمیان صلح جوئی میں کوشاں رہا ہو۔

اﷲ پاک امت مسلمہ کو آپس میں اتفاق و اتحاد نصیب فرمائے۔





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *