ظہور قُدسی کا پس منظر


آپؐ کا ظہور ایسے حالات میں ہوا کہ پوری انسانیت دم توڑ رہی تھی اور تاریکیوں میں ڈوبتی جا رہی تھی۔فوٹو : فائل

آپؐ کا ظہور ایسے حالات میں ہوا کہ پوری انسانیت دم توڑ رہی تھی اور تاریکیوں میں ڈوبتی جا رہی تھی۔فوٹو : فائل

ابرہہ ایک بازنطینی تاجر کا عیسائی غلام تھا۔ حبشہ کے بادشاہ کے مقرر کردہ حاکم یمن سما نفع کو قتل کرنے کے بعد تخت پر بیٹھا بعدازاں حاکم حبشہ کو خراج بھی ادا کرنے لگا وہ اپنے آپ کو عزلی (نائب السلطنت) کے لقب سے یاد کرتا تھا جس کے ساتھ خود کو عتلی ملکن (جلالتہ الملک) بھی کہا کرتا تھا۔ اس نے ایران کے ساتھ بھی مہمیں شروع کی ہوئی تھیں۔

دنیا کی تاریخ میں دو ابراہہ نامی شخصیات نے عروج حاصل کیا جن میں سے ایک مرد کا یہاں ذکر مقصود ہے، جب کہ دوسری شخصیت ایک خاتون کی تھی جو عہداسلام میں ایک لونڈی تھیں جنہوں نے ام المومنین ام حبیبہ ؓ کو حضورؐ کی جانب سے نکاح کا پیغام بھجوایا تھا۔ یہ ہجرت حبشہ کے موقع پر رونما ہونے والا واقعہ ہے، جس کی تفصیلات علیحدہ ہیں۔

ایک روایت میں آتا ہے کہ ابرہہ رومی سلطنت (شام و فلسطین) کی جانب سے یمن پر موجودہ نظام حکومت کے اعتبار سے وائسرائے یا گورنر مقرر تھا۔ یمن ایک قدیم ملک ہے جو دنیا کے نقشے پر آج بھی دو ممالک کے وجود میں قائم ہے اور خانہ کعبہ کی ایک سمت آج بھی اسی ملک کے نام سے معروف ہے، جسے رکن یمانی کہا جاتا ہے۔

ابرہہ نے یمن کے دارالحکومت صنعاء میں عیسائیت کی تبلیغ و تشہیر کی خاطر ایک عظیم الشان کلیسا تعمیر کروایا تھا۔ خانہ کعبہ کو روز اوّل ہی سے اہمیت حاصل رہی ہے۔ چناںچہ اس دور میں بھی وہ بیت اللہ ہی کے نام سے جانا اور پہچانا جاتا تھا۔

عرب کے کفار اور مشرکین سب کا اس پر اتفاق تھا کہ بیت اللہ کی عمارت صرف یہی ہے کوئی اور نہیں اسی لیے وہ اپنی مخصوص عبادات حج، عمرہ وقربانی یہیں ادا کیا کرتے تھے۔ بیت اللہ کی عمارت میں 360بت نصب تھے ہر قبیلے اور ہر خاندان کا ایک علیحدہ بت یعنی خدا تھا، مگر دل چسپ بات یہ ہے کہ ہر قبیلہ اور خاندان اپنے بتوں سے اعلیٰ صرف اللہ کو ہی مانتا تھا۔ گویا وہ متفقہ طور پر ایک اللہ اور ایک اللہ کے گھر کے قائل تھے مگر وہ ان 360 بتوں کو اللہ کے ماتحت یا مددگار مان کر مشرک کہلائے۔

کفار مکہ یا مشرکین کے دلوں میں بیت اللہ کی بڑی عظمت تھی وہ ہر کام کی ابتدا یہیں سے کرتے تھے جس کی وجہ سے یہاں ہر وقت ایک جم غفیر رہتا تھا۔ یہ عظمت و محبت یہود ونصاریٰ کی آنکھوں میں بری طرح کھٹکنے لگی۔ یہی وجہ ہے کہ ابرہہ نے صنعاء میں بیت اللہ کے مقابل ایک عظیم الشان کلیسا تعمیر کروایا، تاکہ عربوں کے دلوں سے بیت اللہ کی قدرو منزلت کم کی جا سکے اور ان کی توجہ اس کلیسا کی جانب مبذول ہوجائے۔ اس کام میں تیزی لانے کے لیے اس نے سفارتی روابط شروع کردیے۔

ابن اسحاق لکھتے ہیں کہ اس کام کی تکمیل کے بعد اس نے شاہ حبش کو لکھا کہ میں عربوں کا حج کعبہ سے اس کلیسا کی طرف موڑے بغیر نہ رہوں گا۔ اس کے اس اعلان پر عربوں کا ایک طبقہ مشتعل ہوگیا۔ چناںچہ ابرہہ نے قسم کھائی کہ اب وہ کعبہ کو ڈھائے بغیر نہیں رہے گا۔

ابرہہ سے تعلق ایک اور روایت انسائیکلوپیڈیا آف اسلام جلد دوم میں ملتی ہے۔ بقول عرب ارباط نے یمن پر بیس سال حکم رانی کی۔ اس اثناء میں حبشی فوج نے بغاوت کردی۔ ابرہہ ایک حبشی سردار اس باغی جماعت کا سرعسکر یعنی آج کا کمانڈر انچیف بن گیا۔ اس لفظ کے معنی ابراہیم ہیں جو حبشی زبان میں ہے اور چوںکہ وہ نک کٹا تھا ، اس لیے اسے شرم بھی کہا جاتا تھا اور اسے ابرہتہ الاشرم کے مکمل نام سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔ عرب اسے حبش کے شاہی خاندان سے سمجھتے تھے۔ بہرحال ارباط تو اس فتنے میں مارا گیا اور ابرہہ تن تنہا مملکت یمن کا بادشاہ بن بیٹھا اس کا زمانہ تاریخ میں 543ء؁ بتایا جاتا ہے۔

اپنی قسم کے مطابق ابرہہ ہاتھیوں پر سوار فوج لے کر مکہ کی جانب روانہ ہوا تاکہ بیت اللہ کو منہدم کرسکے۔ مختلف روایات میں آتا ہے کہ اس کی فوج جرار میں ساٹھ ہزار سپاہی تھے اور تیرہ ہاتھی تھے۔ جب وہ طائف کے نزدیک پہنچا تو ایک شخص جس کا نام ابو رغال تھا ابراہہ کے ساتھ ہولیا، تاکہ مکہ کی طرف راہ نمائی کی جا سکے۔ مکہ سے کچھ فاصلے پر وہ شخص مر گیا۔ اس کے اس فعل قبیح کی بنا پر عرب مدتوں تک اس کی قبر پر سنگ باری کرتے رہے۔ یہ شخص قبیلہ بنی تقیف سے تعلق رکھتا تھا۔

پھر ابرہہ نے ایک ایلچی اہل مکہ کی جانب یہ پیغام دے کر بھیجا کہ میں تم سے لڑنے کے لیے نہیں آرہا بلکہ اس گھر کو ڈھانے آرہا ہوں جو عربوں کا محور اور مرکز بنا ہوا ہے۔ اس وقت مکہ کے سردار آنحضور ؐ کے دادا عبدالمطلب تھے۔ انہوں نے جواب دیا کہ ہم ابرہہ سے لڑنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ وہ خانۂ خدا ہے یعنی اللہ کا گھر ہے اللہ اپنے گھر کو خود بچالے گا۔

ایک اور روایت میں آیا ہے کہ عبدالمطلب نے ابرہہ کو بیت اللہ پر حملے سے باز رکھنے کی حتی المقدور کوشش کی مگر وہ ہرگز نہ مانا۔ ابن ہشام نے لکھا کہ اس موقع پر عبدالمطلب نے کعبے کا دروزاہ پکڑ کر دعا مانگی’’خدایا! بندہ اپنے گھر کی خود حفاظت کرتا ہے تو، تو بھی اپنے گھر کی حفاظت کر۔‘‘ یہ دعا مانگ کر عبدالمطلب اور ان کے ساتھی پہاڑوں پر چلے گئے اور دوسرے ہی روز ابرہہ حملہ کرنے کی غرض سے مکہ کی جانب بڑھا، مگر اس کا ہاتھی رعب خداوندی سے وہیں بیٹھ گیا۔ اسے چھڑیوں اور لاٹھیوں سے کچو کے دیے گئے مگر وہ کھڑا نہ ہوا۔ اتنے میں پرندوں کے جُھنڈ کے جُھنڈ آگئے۔ اکثر کتب میں ان پرندوں کو ابابیل لکھا ہے۔

ان کے بارے میں مزید لکھا ہے کہ انہی ابابیل کی نسل آج بھی بیت اللہ کی حفاظت کررہی ہے۔ حجاج کرام کے مشاہدہ میں آیا ہوگا کہ رات ہو یا دن یہ ابابیل کیسے انسانوں کی طرح Anticlock wiseکعبہ کا طواف بھی کررہے ہیں۔ گویا بیت اللہ کی چوکی داری کررہے ہوں۔ کیا مجال کہ وہاں یہ ذرا سی بھی گندگی پھیلا دیں یا ان کی گندگی کی بنا پر مطاف میں کسی بھی طواف کرنے والے کا جسم یا کپڑے خراب یا ناپاک ہوئے ہوں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ ابابیل بھی دیگر زائرین کی طرح اللہ تبارک وتعالیٰ کی حمدسرائی کرنے اور طواف میں مگن رہتے ہیں۔

لکھا ہے کہ یہ ابابیل اپنی چونچوں اور پنجوں میں سنگریزے لے کر آئے تھے اور انہوں نے ابرہہ کے لشکر پر ان سنگریزوں کی بارش کردی۔ جس پر بھی یہ ایک سنگریزہ گرتا وہ اس کی موت کا باعث بن جاتا تھا۔ ابن اسحاق نے روایت کیا ہے کہ ان سے چیچک کا مرض پھوٹ پڑا تھا۔ لوگوں میں بھگدڑ مچ گئی تھی، کیوںکہ سنگریزوں کی وجہ سے انسان اور ہاتھی کے جسم سوراخ زدہ ہوچکے تھے۔ اطباء اس کو چیچک کہتے ہیں۔ عطاء بن یسار کی روایت ہے کہ تمام افراد اسی وقت ہلاک نہیں ہوئے تھے بلکہ جان بچانے کی کوشش میں ادھر ادھر بھاگئے ہوئے اور کچھ راستوں میں مرے۔ ابرہہ بھی کہیں دور جا کر مرا تھا۔ اس واقعے کا ذکر قرآن حکیم میں اس طرح بیان ہوا ہے۔

ترجمہ:’’کیا تو نے نہ دیکھا کہ تیرے رب نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا (سلوک) کیا۔ کیا ان کے مکر کو بے کار نہ کردیا۔ اور ان پر جُھنڈ کے جُھنڈ پرندوں کے بھیج دیے جو انہیں مٹی اور پتھر کی کنکریاں مار رہے تھے۔ پس انہیں کھائے ہوئے بھوسے کی طرح کردیا‘‘۔ (سورہ الفیل آیات 1تا5) قرآن حکیم نے ابابیل کو پرندوں کا غول کہا ہے۔ اکثر مفسرین کی رائے بھی یہی ہے کہ ابابیل پرندوں کا نام نہیں بلکہ پرندوں کا جُھنڈ ہے۔‘‘ (تفسیر ابن کثیر)

یہ واقعہ کہاں ہوا؟ اسے آسان لفظوں میں یوں کہا جا سکتا ہے کہ یہ واقعہ وادی محسر یا محسب میں پیش آیا تھا جس کا حاجی ہر سال مشاہدہ کرتے ہیں۔ مزدلفہ سے منیٰ روانگی کے دوران راستے میں وادی محسر آتی ہے یہ وادی اور اس کا میدان مزدلفہ سے ملا ہوا ہے۔ اس کی پیمائش 545گز کے قریب ہے۔

حجاج کرام کو یہاں سے تیزی کے ساتھ گزرنے کا حکم ہے۔ یہ کوئی سیروتفریح کا مقام نہیں ہے۔ فقہاء لکھتے ہیں کہ اس مقام پر اصحاب فیل کے واقعے کے بعد سے مسلسل عذاب نازل ہوتا رہتا ہے۔ اس لیے یہاں سیروتفریح کے لیے جانے سے منع کیا جاتا ہے کہیں عذاب میں نہ پھنس جائیں۔ صرف دورانِ حج یہاں سے تیزی سے گزر جانے کی اجازت ہے۔ یہاں سے گزرتے وقت یہ دعا کرتے ہوئے گزرنا چاہیے،’’اے اللہ! تو ہمیں اپنے غضب سے نہ مار اور ہمیں اپنے عذاب سے نہ ہلاک کر اور اس سے پہلے ہی ہمیں معاف فرمادے۔‘‘ اس سال کو عام الفیل اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ابرہہ ہاتھیوں کی فوج لے کر بیت اللہ پر حملہ کرنے کی غرض سے آیا تھا ۔ آنحضورؐ کی ولادت با سعادت اسی سال واقعہ کے چالیس دنوں کے بعد ہوئی، بعض مقامات پر 55 دن کے بعد بھی لکھا ہوا ہے۔

آپؐ کا ظہور ایسے حالات میں ہوا کہ پوری انسانیت دم توڑ رہی تھی اور تاریکیوں میں ڈوبتی جا رہی تھی۔ ہر طرف وحشی دور دورہ تھا کہیں شرک وبت پرستی کا علم بلند تھا تو کہیں روم اور فارس اپنی تہذیب و تمدن کے جھنڈے گاڑنے کی تگ و دو میں تھے۔ بادشاہ فراعین مصر کی طرح اپنے آپ کو خدا کہلوانا چاہتے تھے۔ ان کے حکم رانی کے نظام نے مملکتوں کا حلیہ بگاڑ کر رکھ دیا تھا۔ معمولی سی بات پر حکومتوں کے درمیان جنگوں کا لامتنا ہی سلسلہ شروع ہو جاتا تھا جس میں عوام کی گردنیں گاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دی جاتی تھیں۔

موقع ملنے پر گرجا آتش کدوں میں اور آتش کدے گرجاؤں میں تبدیل ہوجاتے تھے۔ عوام سے بھاری ٹیکس وصول کرنا ان فاتحین کا شعار بن چکا تھا۔ کوئی کسی کا پرسان حال نہ تھا۔ روئے زمین پر کہیں امن دکھائی نہ دیتا تھا۔ ہر طرف طوائف الملوکی کا دوردورہ تھا۔ انبیائے سابق کی تعلیمات کو فراموش کیا گیا۔ اس میں اپنے پسندیدہ عقائد و خیالات کو جبراً شامل کرکے ناکام کوشش کی گئی کہ یہی اصل دین ہے۔ ہر طرف انتشار کا دور دورہ تھا۔ انسان انسان سے متصادم تھا۔ شراب، زنا اور جوئے سے ترکیب پانے والی جاہلی ثقافت عروج پر تھی۔

خود عرب میں ان تمام بداعمالیوں کا بول بالا تھا۔ مشرکانہ اور کافرانہ عقائد سے بیت اللہ کی عظمت کو گھٹایا جارہا تھا۔ 63 سالوں کے بعد حضورؐ نے حجتہ الوداع کے موقع پر بیت اللہ سے وداع ہوتے وقت یہ دعا فرمائی تھی ’’یا اللہ! اس گھر کی عظمت کو دوبالا فرما۔‘‘ یہاں غلاموں کی تجارت زوروں پر تھی۔ لڑکیوں کو زندہ درگور کرنا ان کی عادت میں شمار کیا جانے لگا۔ مکہ اور طائف میں سودی کاروبار کو فروغ دیا جارہا تھا۔ ہر کم زور طاقت ور کے قدموں پر سجدہ ریز تھا۔

ان نامساعد حالات میں حضرت محمدؐ خلق خدا کے لیے نجات دہندہ بن کر تشریف لائے اور پوری دنیا پر چھا گئے۔





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *