قوم یہود پر قربانی کا حکم


قربانی کا یہ حکم انہیں ایک خاص موقع پر دیا گیا تھا کہ جب ان میں قتل و غارت گری حد سے تجاوز کرگئی تھی۔

قربانی کا یہ حکم انہیں ایک خاص موقع پر دیا گیا تھا کہ جب ان میں قتل و غارت گری حد سے تجاوز کرگئی تھی۔

توریت کی ایک روایت میں لکھا ہے کہ ’’خدانے موسٰی اور ہارون سے کہا کہ شرع کے جس آئین کا حکم خدا وند نے دیا ہے۔

وہ یہ ہے کہ توبنی اسرائیل سے کہہ کہ وہ تیرے پاس ایک بے داغ اور بے عیب سرخ رنگ کی بچھیا لائیں جس پر کبھی جوآ (آلۂ زراعت) نہ رکھا گیا ہو اور تم اسے لے کر الیعرز کاہن کو دینا کہ وہ اسے لشکرگاہ کے باہر لے جائے اور کوئی اسے اسی کے سامنے ذبح کر دے اور الیعرز کاہن اپنی انگلی سے اسکا کچھ خون لے کر اسے خیمہ ٔ اجتماع کے آگے کی طرف سات بار چھڑکے پھر کوئی اس کی آنکھوں کے سامنے اس گائے کو جلادے یعنی اس کا چمڑا گوشت اور خون و گوبر ان سب کو وہ جلائے پھر کاہن دیودار کی لکڑی اور زوفا اور سرخ رنگ کا کپڑا لے کر اس گائے میں جس میں گائے جلتی ہو ڈال دے تب کاہن اپنے کپڑے دھوئے اور پانی سے غسل کرے اس کے بعد وہ لشکرگاہ کے اندر آئے پھر بھی کاہن شام تک نا پاک رہے گا اور جو اس گائے کو جلائے وہ بھی اپنے کپڑے پانی سے دھوئے اور غسل کرے اور وہ بھی شام تک نا پاک رہے گا اور کوئی پاک شخص اس گائے کی راکھ کو بٹو رے اور اسے لشکرگاہ کے باہر کسی پاک جگہ میں رکھ دے یہ بنی اسرائیل کی جماعت کے لیے ناپاکی دور کرنے کے لیے رکھی رہے کیوںکہ یہ خطا کی قربانی ہے اور جو کوئی اس گائے کی راکھ کو بٹورے وہ بھی اپنے کپڑے دھوئے اور وہ بھی شام تک ناپاک رہے گا اور یہ بنی اسرائیل کے اور ان پردیسیوں کے لیے جو ان میں بودوباش رکھتے ہیں ایک دائمی آئین ہوگا۔‘‘ (گنتی باب 18آیات 1تا10)

توریت کی یہ روایت یہودی قوم کو گائے کے ذبیحے سے متعلق دیے گئے شرعی احکامات پر مبنی ہے۔ قربانی کا یہ حکم انہیں ایک خاص موقع پر دیا گیا تھا کہ جب ان میں قتل و غارت گری حد سے تجاوز کرگئی تھی۔ عام انسان کا قتل ان کے نزدیک معمولی سی بات تھی جب کہ وہ انبیائے کرام کے قتل سے بھی نہیں چوکتے تھے۔

اکثر بنی اسرائیل بھی انہی میں بھیجے گئے برگزیدہ پیغمبر اسی قوم یہود کے ہاتھوں قتل ہوئے یہ کوئی اس قوم پر سادہ سا الزام نہیں ہے بلکہ اسے تو ہماری کتاب مقدس یعنی قرآن حکیم میں اکثر مقامات پر بیان کیا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ:’’ان پر ذلت اور مسکینی ڈال دی گئی اور اللہ کا غضب لے کر وہ لوٹے یہ اس لیے کہ وہ اللہ کی آیتوں کے ساتھ کفر کرتے تھے اور نبیوں کو ناحق قتل کرتے تھے یہ ان کی نافرمانیوں اور زیادتیوں کا نتیجہ ہے۔‘‘ (سورہ البقرۃ آیت61)

ذلت اور مسکنت ان پر ڈالنے کی وجہ خود اللہ تعالیٰ نے اس آیۂ مبارکہ میں بیان کی کہ یہ اس کی آیتوں کا انکار کرتے تھے اور اللہ کی طرف بلانے والے انبیاء کی تذلیل و اہانت کرتے اور آخر میں انہیں قتل کرڈالتے تھے۔ پچھلے دور میں یہود ان جرائم کا ارتکاب کرکے دنیا ہی میں مبغوض و مقہور ہوئے جب کہ عذاب آخرت ابھی باقی ہے۔

آیات الٰہی اور گزرے ہوئے انبیاء کی تکذیب کرکے یہ لوگ کیسے سرخرو ہو سکتے ہیں۔ اقوام عالم میں اگر اس کا آج بھی تجزیہ کیا جائے تو یہی قوم دنیا کی سب سے بڑی نا فرمان قوم ہے۔ انہیں اللہ نے اور اس کے رسولوں نے جس کام سے بھی روکا اس کام کو انہوں نے ضرور سرانجام دیا مثلاً ہفتے کے دن مچھلی کا شکار (۲) گئوشالہ پرستی جیسے مذہبی امور کی نفی اور اگر بالفرض انہوں نے مذہبی احکام کی پاس داری کرنی بھی چاہی تو اس میں کمی بیشی کرکے حد سے تجاوز کرجاتے تھے۔ یوں یہ شرائع کو مسنح کرنے کا باعث بنے جو ان کی تباہی کا سبب بنا۔

توریت میں لکھی گئی روایت کا ذکر قرآن حکیم میں بھی موجود ہے، ترجمہ ’’اور موسٰی نے جب اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے تو انہوں نے کہا ہم سے مذاق کیوں کرتے ہو آپ نے جواب دیا کہ میں ایسا جاہل ہونے سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں۔ انہوں نے کہا، اے موسٰی! دعاء کیجیے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے لیے اس کی ماہیت بیان کردے۔ آپ نے فرمایا سنو وہ گائے نہ بُڑھیا ہو نہ بالکل بچہ بلکہ درمیانی عمر کی نوجوان (بچھیا) ہو۔ اب جو تمہیں حکم دیا جارہا ہے بجا لاؤ۔ وہ پھر کہنے لگے کہ دعا کیجیے کہ اللہ تعالیٰ بیان کرے کہ اس کا رنگ کیا ہے۔

فرمایا وہ کہتا ہے کہ وہ گائے زرد رنگ کی ہے، چمکیلا اور دیکھنے والوں کو بھلا لگنے والا اس کا رنگ ہے۔ وہ کہنے لگے کہ اپنے رب سے دعا کیجیے کہ وہ ہمیں اس کی مزید ماہیت بتائے، اس قسم کی گائیں تو بہت ہیں، پتا نہیں چلتا۔ اگر اللہ نے چاہا تو ہم ضرور ہدایت والے بن جائیں گے۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ کا فرمان ہے کہ وہ گائے کام کرنے والی زمین میں ہل جوتنے والی اور کھیتوں کو آبپاشی کرنے والی نہ ہو وہ تن درست اور بے داغ ہو انہوں نے کہا، اب آپ نے حق واضح کردیا۔ گو وہ حکم برداری کے قریب نہ تھے لیکن اسے مانا اورگائے ذبح کردی۔

جب تم نے ایک شخص کو قتل کرڈالا پھر اس میں اختلاف کرنے لگے اور تمہاری پوشیدگی کو اللہ ظاہر کرنے والا تھا۔ ہم نے کہا اس گائے کا ایک ٹکڑا مقتول کے جسم سے لگا دو (مس کردو) تو وہ جی اٹھے گا۔ اسی طرح اللہ مُردوں کو زندہ کرکے تمہیں تمہاری عقل مندی کے لیے اپنی نشانیاں دکھاتا ہے۔ پھر اس کے بعد تمہارے دل پتھر جیسے بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت ہوگئے، بعض پتھروں سے تو نہریں بہہ نکلتی ہیں اور بعض پھٹ جاتے ہیں اور ان سے پانی نکل آتا ہے اور بعض اللہ تعالیٰ کے ڈر سے گر گرکر پڑتے ہیں اور تم اللہ تعالیٰ کو اپنے اعمال سے غافل نہ جانو۔‘‘ (سورہ البقرۃ آیات 67تا74)

مفسرین کرام ان آیات مبارکہ کی تشریح و تفسیر میں لکھتے ہیں کہ بنی اسرائیل میں ایک لاولد مالدار آدمی تھا جس کا وارث صرف اس کا ایک بھتیجا تھا۔ ایک رات اس بھتیجے نے مال اور دولت کے لالچ میں اپنے چچا کو قتل کردیا اور لاش محلہ میں ہی کسی کے دروازے پر ڈال دی جب صبح ہوئی تو قتل کا الزام ایک دوسرے پر ڈالنے لگے۔ جب قضیہ بڑھا تو بات موسٰی ؑ تک پہنچی تو انہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم ہوا۔

گائے ذبح کرنے کے حکم میں سرکش اور نافرمان قوم کج بحثی میں الجھ گئی اور باربار اپنے نبی جناب موسٰی ؑ سے سوالات کرنے لگی، اگرچہ ابتدا میں انہیں صرف گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا جو قرآن حکیم کے متن سے صاف ظاہر ہے۔ انہیں چاہیے تو یہ تھا کہ موجودہ گائے کے ریوڑ سے کوئی بھی ایک گائے قربان کردیتے تو حکم الٰہی کی بھی تعمیل ہوجاتی اور خدا کے فرمانبرداروں میں بھی شامل ہوجاتے انہوں نے حکم الٰہی پر سیدھے طریقے سے عمل کرنے کی بجائے مین میخ نکالنا شروع کردیا اور طرح طرح کے سوالات کے بعد اللہ تعالیٰ نے بھی سختی اختیار کی۔

یہی وجہ ہے کہ دین میں تعمّق اور سختی اختیار کرنے سے منع کیا گیا ہے۔ اللہ سے کیا چیز پوشیدہ ہے، انہیں تو صرف ایک حکم کے ذریعے آزمائش میں مبتلا کیا گیا، ورنہ تو موسٰی ؑ کے ذریعے بھی قاتل کی نشان دہی ہو سکتی تھی صرف ذبح کی گئی گائے کے گوشت کا لوتھڑا مقتول سے مس کرنا تھا جس سے قتل کرنے والے کا راز افشا ہو جاتا۔ چناںچہ حکم الٰہی کے تحت ایسا ہی کیا گیا مقتول کے جسم سے جیسے ہی اس گائے کے گوشت کا لوتھڑا لگا وہ مقتول فوراً زند ہ ہوگیا اور قاتل کی نشان دہی کرتے ہی واپس مر گیا۔

قوم یہود اللہ کو چھوڑ کر گئوسالہ پرستی میں مبتلا ہوگئی تھی، جو اللہ کے نزدیک باطل عقیدہ تھا۔ اس لیے انہیں گائے کے ذبیحے کا حکم دیا گیا ان کا امتحان اسی طرح لیا جا سکتا تھا کہ اب اگر وہ واقعی کسی ایک کو معبود مانتے ہیں تو اب اس دوسرے معبود کو اپنے ہاتھ سے توڑیں (ذبح کریں) یہ ایک کڑا امتحان تھا۔ ان کے دلوں میں ایمان ابھی پورا اترا نہ تھا۔ اس لیے وہ باربار موسٰی ؑ سے سوالات کرتے رہے کہ کسی طرح یہ ذبیحہ ٹل جائے مگر جتنی تفصیل میں وہ جاتے رہے اتنے ہی گھرتے رہے بالآخر انہیں گائے کا ذبیحہ دینا پڑا۔





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *