کروناویکسین کی تیاری میں آکسفورڈ یونیورسٹی نے غلطی کا اعتراف کرلیا


لندن: ادویہ ساز کمپنی آسترازینیکا اور آکسفورڈ یونیورسٹی نے کروناویکسین کی تیاری کے دوران مینوفیکچرنگ غلطی کا اعتراف کرلیا جس کے بعد ویکسین کے نتائج پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔

غیرملکی خبررساں ادارے کی رپورٹ کے مطابق آسترازینیکا اور آکسفورڈ یونیورسٹی کے مشترکہ تعاون سے کروناویکسین تیار کی جارہی ہے رواں ہفتے ویکسین کے آخرے مرحلے کے ٹرائل کے ابتدائی نتائج جاری کیے گئے تھے جس میں بتایا گیا تھا کہ مشاہدے سے ثابت ہوا کہ ویکسین 70 سے 90 فیصد تک مؤثر ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی نے اعتراف کیا ہے کہ مذکورہ ٹرائل میں کچھ رضاکاروں کو غلطی سے ویکسین کی کم مقدار دی گئی، درحقیقت کم ڈوز کا استعمال کرانا ٹرائل کا حصہ نہیں تھا بلکہ یہ غلطی سے ہوا، تجربے کے لیے استعمال ہونے والی کچھ وائلز میں ویکسین کا تناسب درست نہیں تھا تو کچھ رضاکاروں کو آدھا ڈوز دیا گیا۔

یونیورسٹی نے بتایا بعد ازاں مینوفیکچرنگ مسئلے کو حل کرلیا گیا اور پھر جن 2 ہزار 741 افراد کو پہلا ڈوز کم مقدار میں دیا گیا تھا ان میں 28 دن بعد دوسرا ڈوز مکمل دیا گیا جبکہ 8 ہزار 895 افراد کو 2 مکمل ڈوز دیے گئے ہیں۔

رواں ہفتے جاری ہونے والے ویکسین نتائج میں کم مقدار کے مقابلے میں یکساں مقدار والے 2 ڈوز استعمال کرنے والے گروپ میں مؤثر ہونے کی شرح 62 فیصد تک رہی اور مجموعی طور پر اوسطاً 70 فیصد تک تحفظ ریکارڈ کیا گیا تھا۔

وائرس کا پھیلاؤ، کرونا مریض کتنے دن تک دوسروں کے لیے خطرناک ہوتے ہیں؟

ماہرین کا کہنا ہے کہ جن رضاکاروں کو کم مقدار میں ویکسین دی گئی تھی ان کی عمریں 55 سال سے کم تھیں، جوان افراد کا مدافعتی ردعمل بزرگ افراد کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہوتا ہے یہ وجہ ہوسکتی ہے کہ ویکسین کے کم ڈوز ان میں مثبت نتائج سامنے لائے جبکہ اس پر مزید کام کی ضرورت ہے۔

Comments





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *