کورونا وائرس کی نئی قسم کا پھیلاؤ مارچ تک شدید ہوجائے گا، ماہرین


کووِڈ 19 کی یہ نئی قسم صرف چار ماہ میں دنیا بھر کے 36 ممالک میں 15,369 افراد کو متاثر کرچکی ہے۔ (فوٹو: ییل یونیورسٹی نیوز)

کووِڈ 19 کی یہ نئی قسم صرف چار ماہ میں دنیا بھر کے 36 ممالک میں 15,369 افراد کو متاثر کرچکی ہے۔ (فوٹو: ییل یونیورسٹی نیوز)

واشنگٹن: امراض سے متعلق مرکزی امریکی ادارے ’’سی ڈی سی‘‘ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کووِڈ 19 وائرس کی نئی قسم (B.1.1.7) سے متاثر ہونے والوں کی تعداد تیزی سے بڑھ رہی ہے جو مارچ تک سب سے زیادہ ہوجائے گی۔ نتیجتاً اسپتال میں داخل ہونے اور مرنے والوں تعداد بھی بہت بڑھ سکتی ہے۔

کووِڈ 19 کی یہ نئی قسم صرف چار ماہ میں دنیا بھر کے 36 ممالک میں 15,369 افراد کو متاثر کرچکی ہے۔

واضح رہے کہ پچھلے سال عالمی وبا کی صورت اختیار کرنے والا ’’ناول کورونا وائرس‘‘ (کووِڈ 19) اب تک تقریباً 9 کروڑ 44 لاکھ افراد کو متاثر کرچکا ہے جن میں سے 6 کروڑ 75 لاکھ لوگ صحت یاب جبکہ 2 لاکھ سے زیادہ افراد موت سے ہم آغوش ہوچکے ہیں۔

ستمبر 2020 میں اسی وائرس کی ایک نئی قسم برطانیہ میں سامنے آئی جو زیادہ تیزی سے پھیلنے اور زیادہ تعداد میں لوگوں کو متاثر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

یہ خبر بھی پڑھیے: کورونا وائرس کی نئی قسم بدترین وبائی لہر کا باعث بن سکتی ہے، ماہرین

اس بارے میں یورپی ماہرین اور عالمی ادارہ صحت پہلے ہی خبردار کرچکے ہیں کہ یہ کووِڈ 19 کی پچھلی قسم کے مقابلے میں 50 تا 70 فیصد زیادہ تیز رفتار پھیلاؤ کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اب تک کورونا وائرس سے متاثر ہونے والے ہر ایک لاکھ افراد میں سے تقریباً 150 افراد اس کی نئی قسم سے متاثر ہیں لیکن یہ شرح مسلسل بڑھتی جارہی ہے۔

اگرچہ امریکا میں اب تک کووِڈ 19 کی نئی قسم سے متاثر ہونے والے صرف 76 افراد ہی ریکارڈ پر ہیں جو وہاں کورونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد (2 کروڑ 41 لاکھ) کے مقابلے میں بہت کم ہیں لیکن ’’سی ڈی سی‘‘ نے خبردار کیا ہے کہ ان کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہوسکتی ہے کیونکہ کورونا وائرس کی یہ نئی قسم بہت تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

ادارے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ مارچ تک کووِڈ 19 کی نئی قسم اسی وائرس کی پرانی قسم کے مقابلے میں زیادہ لوگوں کو متاثر کررہی ہوگی۔

’’سی ڈی سی‘‘ نے احتیاطی تدابیر پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ وائرس کا پھیلاؤ روکنے کےلیے سماجی فاصلوں، ماسک اور دوسرے اقدامات پر پچھلے سال کی نسبت زیادہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔

اگرچہ کووِڈ 19 کی نئی قسم سے شرحِ اموات بھی بہت کم ہے لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر لوگوں کی بہت بڑی تعداد اس سے متاثر ہوگئی تو کم تر شرح اموات کے باوجود، نئی قسم کے کورونا وائرس سے مرنے والوں کی مجموعی تعداد بہت زیادہ ہوگی۔





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *