کورونا ویکسین سب پر اثر کرے گی یا نہیں، برطانوی سائنسدان کا خدشہ –


لندن : برطانیہ کی ویکسین ٹاسک فورس چیف نے اس بات کا خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ہوسکتا ہے کہ کورونا ویکسین سب پر اثرانداز نہ ہو، یقین سے نہیں کہا جاسکتا کہ ویکسین بن بھی پائے گی یا نہیں۔

ٹاسک فورس چیف کیٹ بنگھم نے کہا کہ فی الحال تو ہمیں یہ بھی نہیں پتہ کہ ویکسین کب تک بنے گی یا یہ کہ کبھی بن بھی پائے گی یا نہیں، ہمیں ضرورت سے زیادہ خوش فہمی میں پڑنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔

کورونا وائرس کی عالمی وبا سے نجات پانے کے لیے پوری دنیا کو ویکسین کا شدت سے انتظار ہے اس سلسلے میں سائنسدان بھی دن رات اپنی تگ و دو میں لگے ہوئے ہپں۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق  ا س سلسلے میں برطانیہ کی ویکسین ٹاسک فورس چیف کیٹ بنگم نے یہ کہہ کر سب کو حیرت اور مایوسی میں مبتلا کر دیا ہے کہ ممکن ہے کورونا ویکسین سبھی عمر کے لوگوں پر اثرانداز نہ ہو۔

انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ پہلے مرحلہ میں جو ویکسین لوگوں تک پہنچے گی وہ مکمل پرفیکٹ نہیں ہوگی، اس میں خامیاں ہوں گی اور ہوسکتا ہے کہ یہ سبھی لوگوں کے لیے کارگر ثابت نہ ہو۔

دوسری جانب آکسفورڈ ایسٹراجینیکا ویکسین نے گزشتہ منگل کو کہا تھا کہ ابتدائی نتائج میں ان کی ویکسین بزرگوں پر بھی اثر دکھا رہی ہے جو خوشی کی بات ہے۔

لینسٹ جنرل سے بات چیت میں انہوں نے کہا کہ پہلی جنریشن کی ویکسین میں یقیناً کچھ خامیاں ہوں گی، ہمیں اس بات کے لیے تیار رہنا چاہیے کہ یہ ویکسین علامتوں کو گھٹانے کے معاملے میں بھی شاید ہر عمر کے لوگوں کے لیے کارگر ثابت نہ ہو۔

کیٹ کے مطابق65 سال سے زیادہ کی عمر کے اشخاص کے لیے ابھی پرفیکٹ ویکسین کا انتظار اور طویل ہوسکتا ہے۔
آکسفورڈ یونیورسٹی نے منگل کو بتایا کہ ٹیسٹنگ کے لیے جن لوگوں کو بھی اس کی کورونا ویکسین کی خوراک دی گئی ہے، ان میں مضبوط قوت مدافعت پیدا ہوئی ہے۔

آکسفورڈ یونیورسٹی برطانیہ کی دوا کمپنی ایسٹراجنیکا کے ساتھ مل کر کورونا ویکسین تیار کر رہی ہے حالانکہ ٹیسٹنگ کے شروعاتی نتائج کو آفیشیل طور پر ابھی جاری نہیں کیا گیا ہے لیکن یونیورسٹی کے پروفیسر اینڈریو پولارڈ نے حال ہی میں ایک ریسرچ کانفرنس میں کہا کہ مثبت نتائج حاصل ہوئے ہیں۔

Comments





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *