ہیں لوگ وہی جہاں میں اچّھے ۔۔۔ !


 یہ مقصد اسی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے جب ایسے لوگوں کی ضرورت اور معذوری کا خاتمہ کرکے معاشرے میں دولت و ضرورت کے درمیان توازن پیدا کیا جائے

 یہ مقصد اسی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے جب ایسے لوگوں کی ضرورت اور معذوری کا خاتمہ کرکے معاشرے میں دولت و ضرورت کے درمیان توازن پیدا کیا جائے

محتاجوں، غریبوں، یتیموں اور ضرورت مندوں کی مدد، معاونت، حاجت روائی، ہم دردی اور ان کی دل جوئی کرنے کو دین اسلام نے بنیادی درس اور ربّ تعالیٰ کو راضی کرنے کا نسخہ بتایا گیا ہے۔

قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ کا مفہوم ہے: ’’ نیکی صرف یہ نہیں کہ آپ لوگ اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لیں، بل کہ اصل نیکی تو اس شخص کی ہے جو اﷲ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (آسمانی) کتابوں پر اور پیغمبروںؑ پر ایمان لائے، اور مال سے محبّت کے باوجود اسے قرابت داروں، یتیموں، محتاجوں، مسافروں، سوال کرنے والوں، اور غلاموں کی آزادی پر خرچ کرے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور جب کوئی وعدہ کریں تو اسے پورا کرتے ہیں۔ سختی، مصیبت اور جہاد کے وقت صبر کرتے ہیں۔ یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں۔‘‘ (سورۃ البقرۃ)

قرآن مجید میں ارشاد باری تعالی کا مفہوم ہے: ’’ (لوگ) آپ ﷺ سے پوچھتے ہیں کہ (اﷲ کی راہ میں) کیا خرچ کریں۔ فرما دیجیے کہ جس قدر بھی مال خرچ کرو (درست ہے) مگر اس کے حق دار تمہارے ماں باپ ہیں اور قریبی رشتے دار ہیں اور یتیم ہیں اور محتاج ہیں اور مسافر ہیں اور جو نیکی بھی تم کرتے ہو، بے شک اﷲ تعالیٰ اسے خوب جاننے والا ہے۔‘‘ (سورۃ البقرہ)

اسلام کا بنیادی مقصد معاشرے کے محتاجوں، بے کسوں، معذوروں، بیماروں، بیواؤں، یتیموں اور بے سہارا افراد کی دیکھ بھال اور ان کی فلاح و بہبود ہے۔ یہ مقصد اسی صورت میں حاصل ہوسکتا ہے جب ایسے لوگوں کی ضرورت اور معذوری کا خاتمہ کرکے معاشرے میں دولت و ضرورت کے درمیان توازن پیدا کیا جائے۔ جو لوگ معاشرے سے غربت و افلاس اور ضرورت و احتیاج دور کرنے کے لیے اپنا مال و دولت خرچ کرتے ہیں، اﷲ تعالیٰ ان کے خرچ کو اپنے ذمے قرض حسنہ قرار دیتے ہیں۔

ساتھ ہی اس بات کی بھی ضمانت دیتے ہیں کہ اﷲ کی راہ میں خرچ کیے گئے مال کو کئی گنا بڑھا کر دیا جائے گا۔ دوسروں کی مدد اور ان کی ضروریات کو پورا کرنا اﷲ تعالیٰ کے نزدیک نہایت پسندیدہ عمل ہے۔ دین اسلام سراسر خیر خواہی کا پرچارک ہے، اسلام میں حقوق العباد کی اہمیت کو حقوق اﷲ کی اہمیت سے بڑھ کر بیان کیا گیا ہے اور دوسروں کی خیر خواہی اور مدد سے جو حقیقی خوشی اور راحت حاصل ہوتی ہے وہ اطمینان قلب کے ساتھ رضائے الٰہی کے حصول کا باعث بنتی ہے۔

خاتم النبیین محسن انسانیت ﷺ نے ناصرف حاجت مندوں کی حاجت روائی کرنے کا حکم دیا، بل کہ عملی طور پر آپؐ خود بھی ہمیشہ غریبوں، یتیموں، مسکینوں اور ضرورت مندوں کی مدد کرتے۔ ایک مرتبہ آپ ﷺ مسجد نبوی میں صحابہ کرام ؓ کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ ایک عورت اپنی کسی ضرورت کے لیے آپؐ کے پاس آئی۔ آپ ﷺ نے صحابہ کرامؓ کے درمیان سے اٹھ کر دیر تک مسجد کے صحن میں اس کی باتیں سنیں اور اس کی حاجت روائی کا یقین دلا کر اسے مطمئن کرکے بھیجا۔ آپ صلی اﷲ علیہ وسلم کا فرمان ہے کہ حاجت مندوں کی مدد کے لیے میں مدینہ کے دوسرے سرے تک جانے کے لیے بھی تیار ہوں۔

حدیث نبوی ﷺ کا مفہوم ہے کہ ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے، وہ نہ اس پر ظلم کرتا ہے اور نہ اسے بے یار و مددگار چھوڑتا ہے۔ جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی حاجت روائی کرتا ہے، اﷲ تعالیٰ اس کی حاجت روائی فرماتا ہے اور جو شخص کسی مسلمان کی پردہ پوشی کرتا ہے اﷲ تعالیٰ قیا مت کے دن اس کی ستر پوشی فرمائے گا۔

ارشاد نبوی ﷺ کا مفہوم ہے کہ اﷲ تعالیٰ اس وقت تک اپنے بندے کے کام میں (مدد کرتا ) رہتا ہے جب تک بندہ اپنے مسلمان بھائی کے کام میں مدد کرتا رہتا ہے۔

حضور صلی اﷲ علیہ وسلم نے فرمایا تمہارے خادم (محتاج ) تمہارے بھائی ہیں، اﷲ تعالیٰ نے ان کو تمہارے ماتحت کردیا ہے۔ پس جس کا بھائی اس کے ماتحت ہو جو کھانا خود کھائے اس میں سے اسے کھلائے اور جو کپڑا خود پہنے وہی اسے پہنائے اور اس سے ایسی مشقّت نہ لے جو اس کی طاقت سے باہر ہو اور اگر اس کی طاقت سے بڑھ کر کوئی کام اس کے سپر د کر ے تو خود بھی اس کی مدد کر ے۔ (بخاری و مسلم)

نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے: ’’ صدقہ اﷲ ربّ العزّت کے غضب کو ٹھنڈا کرتا اور بُری موت کو دُور کرتا ہے۔ ‘‘ (ترمذی)

لیکن آج اسلام کی روشن تعلیمات سے دور ہوکر ہمارا طرز زندگی، ہمارا طرز معاشرت بہت بدل گیا ہے، بے حسی تو معاشرے کا معمول بنتی جارہی ہے، ہمیں اپنے رشتے داروں، ہمسایوں، ضرورت مندوں کے دکھ درد کا احساس ہی نہیں ہے۔ ہم خود تو پیٹ بھر کر کھاتے ہیں لیکن اپنے بھوکے پڑوسی کی طرف مڑکر بھی نہیں دیکھتے۔

اس کے بچے روٹی کو ترستے ہیں اور ہم اپنے بچوں پر ضرورت سے زاید خرچ کرتے ہیں۔ اور ہمیں اس بے حسی اور بے جا اصراف پر شرمندگی بھی نہیں۔ ہمیں فلاح انسانیت کے لیے اپنا طرز زندگی بدلنا ہوگا، جیسا کہ صحابہ اکرام رضوان اﷲ تعالیٰ علیہم، نبی کریم ﷺ کے کہنے پر اپنی جان و مال اپنے مسلمان بھائیوں پر نچھاور کرنے کے لیے ہمہ وقت تیا ر رہتے تھے، اسی طرح آج ہمیں بھی اسلامی تعلیمات پر عمل پیرا ہونے کی ضرورت ہے۔ ہمیں غور کرنا چاہیے کہ رشتے داروں، غرباء و مساکین، ہمسایوں اور ملازمین کے ساتھ ہمارا برتاؤ کیسا ہے۔

کہیں ہم اسلامی تعلیمات کی حلاف ورزی کرکے جہنم کا ایندھن بننے کی تیار ی تو نہیں کر رہے۔ ہمیں خود کو نکھارنے، اور اپنے اندر اعلیٰ اوصاف پیدا کرنے کی کوشش کرنا چاہیے۔ اپنے لیے تو سبھی جیتے ہیں، لیکن اصل جوہر زندگی تو دوسروں کے لیے جینا ہے، دوسروں کی مشکلات و مسائل کو محسوس کرتے ہوئے ان کا ہاتھ بٹانا ہے۔ ہماری مدد و معاونت سے اگر کسی کی جان بچ سکتی ہے۔

کسی کی مشکل آسان ہوسکتی ہے ، کسی مجبور بیمار کا علاج ہوسکتا ہے ، کسی کے حصول رزق میں معاونت ہوسکتی ہے، کسی بے کس اور ضرورت مند کی بیٹی کے ہاتھ پیلے ہوسکتے ہیں، کسی کے بچوں کا طرز زندگی بہتر ہوسکتا ہے، کسی کو حصول علم میں مدد دی جاسکتی ہے تو یہ ہمارے لیے باعث اعزاز اور باعث راحت ہونے کے ساتھ رضائے الٰہی کا ذریعہ بھی ہے۔ لہٰذا ہمیں زندگی کو اس انداز سے گزارنا چاہیے تاکہ دین و دنیا میں کام یابی کے ساتھ ہمیں قلبی اطمینان بھی حاصل ہو۔





Source link

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *